سٹوڈنٹ لائف اور امتحانات جب سکولز اور کالجز سے سٹوڈنٹس کی اچھی چل رہی زندگی دیکھی نہیں گی تو انہو نے امتحانات اور رزلٹ ایجاد کر دیا ۔ اسکول کے دنوں میں کچھ لوگ تو جوش جوش میں آ کر فیس بک اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کر دیتے تھے وہ الگ بات ہے یہ جوش کچھ دنوں بعد ہی ختم ہو جاتا تھا اور یہ فیس بک اکاؤنٹ واپس سے آن ہو جاتا۔ ہر کلاس میں ایک ایسا بندا ہوتا ہے جو ٹیچر کو سرپرائز ٹیسٹ کی یاد دلا دیتا ہے پوری کلاس کے خلاف ہو کے مجھے آج تک سمجھ نہیں آیی کے کسی کو ٹیسٹ دینے کی اتنی کھجلی کیسے ہو سکتی ہے۔ کالج میں اتے ہی سمجھ اتی ہے کے امتحانات اور رزلٹ سب دھوکہ ہے رولز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں اور اس دن سے ان دونو کا ڈر ختم ہو جاتا ہے اور یہ ڈر دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک فلم سے انسپائر ہو کے میں نے یہ فیصلہ کیا کے کالج میں نمبرز کے لئے نہیں بلکے علم کے لئے پڑنا ہے۔ میرا تیسرا سال بھی ختم ہونے والا ہے پر آج بھی جب میں اپنے سلیبس کو دیکھتا ہوں...