Posts

Showing posts from January, 2018

میری ہوٹ جونیئر کی کہانی۔۔۔

Image
کالج میں آ کر فیس بک پر لڑکیاں دیکھنا تو ہر لڑکے کا ایک فیوریٹ ٹائم پاس ہوتا ھے۔ اور ہر سال نئی لڑکیوں کو ڈھونڈنے کا بھی الگ ہی مزہ ھے۔ دماغ تو اس بات کو مان چکا تھا کے بھائی کوئی لڑکی نہیں ملنی پر دل کو نہ ابھی بھی جونیئرز دیکھ کر اپنا چانس دیکھتا تھا۔ بس اسی چانس کے چکر میں مجھے فیس بک پر ایک لڑکی دیکھی سونیہ جس کے ساتھ میری ایک کلاس فیلو میوچل فرینڈ تھی یہ دیکھ کر میں نے سوچا کے اب تو کوئی پریشانی نہیں خود ہی جگاڑھ لگ گیا میرا تو۔ اپنے سینئر ہونے کا فائدہ اٹھایا میں نے اور اس سے بات کرنا شروع کر دیا پھر کیا میرے باقی دوست بھی شو دیکھنے لگ گئے کے سِین سیٹ ہو گا کے نہیں تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد میں نے اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے کا بولا تو سینڈ کرنے کے بدلے اس نے رپلائ کرنا ہی بند کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے ایک کال آیی وو کال میری اسی کلاس فیلو کی تھی۔ وہ مجھے کہنے لگی کے کیا کر رہا ھے تو وہ میری امی کی دوست کی بیٹی ھے اتنے برے دن آ گئے تیرے کے اب تو بچو پر لائن مارے گا۔ حد ہوتی ھے اب میں سالہ سوچ میں پڑگیا کے کرو تو کیا کرو۔ اگلے دن میں نے کلاس کے بعد اسکو اور اسکے گروپ کو پہلی بار...

دوست کا بدلہ!!

Image
ایک دن میں اور میرا دوست کل کے پیپر کے لئے بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تب میں نے دیکھا کے میرا دوست پڑھ نہیں رہا تھا اور اداس سا منہ لٹکا کے بیٹھا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کے اس کی کرش نے فیس بک پر اس کی ریکویسٹ ریجیکٹ کر دی۔ دو دن پہلے اس نے بتایا تھا اس لڑکی کے بارے میں یہ اسکی کلاس میں پڑھتی تھی پر اس کی کبھی ہمت نہیں ہوئی اس سے بات کرنے کی۔ اب لڑکی بڑی چپ چاپ ٹائپ کی تھی کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی تو اس کی بھی ہمت نہیں ہوئی کبھی اس سے بات کرنے کی۔ بندہ کنفیوژن میں آ گیا کے کروں تو کیا کروں تب میں نے کہا کے تو فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کر دے۔ اور ویسے بھی وو کرش ہی کیا جو اوقات کے باہر نہ ہو۔ میں سمجھ گیا کے آج لڑکی کی وجہ سے ہم دونو ٹیسٹ میں فیل ہونگے۔ تو میں نے اس کی ایک فرینڈ کی جعلی آئ ڈی بنایی اور اسے ریکویسٹ سینڈ کر دی۔ اس بار بات بن گی تو میں نے نارمل بات شروع کر دی۔کچھ دیر بعد اسے شک ہو گیا تو اس نے پوچھا کے کیا یہ نقلی آئ ڈی ھے روکو میں کال کرتی ہوں میں نے کہ دیا ہاں کر دو اصل میں مجھے لگا وو نہیں کرے گی بس ایسے ہی مذاق کر رہی ھے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے یہ جعلی آئ ڈ...

کالج کی حاضری!

Image
اسکول ہو یا کالج دونوں ایک اہم چیز سے چلتے ہیں جو ہی حاضری۔ اسکول کے ٹائم پہ حاضری کا اتنا مسلہ نہیں ہوتا تھا کیوں کے اسکول کے ٹائم پر کلاسز بنک کرنے کا کوئی پتا ہی نہیں تھا اور تب حاضری بھی صرف ایک بار ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر گیارھویں بارھویں میں انجینرنگ کے چکرمیں ایک سستے کالج میں داخلہ ہو گیا جہاں پر کلاسز میں جانے کا کوئی چکر نہیں ہوا کرتا تھا اور زیادہ تر وقت اکیڈمی میں گزر جاتا تاکہ ہم یو ام ٹی میں جا سکے۔ شروع شروع میں جب میں کالج میں آیا تو یہ نہیں پتا تھا کے کالج میں حاضری کا چکر اسکول سے بھی برا ہونے والا ھے۔ داخلے کے لئے پچھتر فیصد نمبروں کا سیاپا لائف میں جڑ گیا اور اگر یہ بھی کم پڑے تو مارکس کے بھی فیصد حاضری لگنے لگی۔ اب غریب سٹوڈنٹ کرے بھی تو کیا کرے۔ پہلے سال میں کلاس رومز اور عمارت بڑی خوبصورت ہوا کرتے تھے اور کلاس میں سونے کا مزہ ہی کچھ اور ہوا کرتا تھا۔ پھر سیکنڈ ائیر میں آ کے کالج اپنی اصلی اوقات پر آ گیا اور ہمے گھٹیا سے کلاس رومز میں شفٹ کر دیا گیا۔ اب ہر روز صبح صبح اٹھ کر کالج جانا سب سے مشکل کام بن گیا۔ ہر صبح ایک سٹینڈرڈ روٹین تھا کے اگر پہلا لیکچر بنک...
Image
                                  انجینئرز کے مطلق حقائق انجینرنگ ایک ایسی دنیا جہاں اتے تو سبھی سویگ میں ہیں پر جاتے سبھی اپنا کٹوا کر ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ھے گھر والوں کا پریشر تھا اور نہ ہی یہ کے ہم ڈفر ہیں۔ دراصل ہم انجینئرز بڑے سیدھے اور ڈاوُن ٹو ارتھ ہوتے ہیں۔ اگر یقین نہیں ہو رہا تو پروف نہیں پروفس  حاضر ہیں۔                                                             :پہلا پروف ہم لوگ انجینئرز بنتے کیوں ہیں؟ اس کا ایک سادہ سا جواب یہ ھے کے اگر ہم ڈاکٹر بنتے تو جان بچاتے اگر وکیل بنتے تو زندگی کا دفاع کرتے اور اگر آرمی میں جاتے تو زندگی کی حفاظت کرتے۔ پر دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا ہی کیوں ھے اسی لئے ہم انجینرنگ رکھ کر خود اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔               ...
Image
                              کالج کی زندگی کو محفوظ رکھنا   مجھے ایک بات تو سمجھ آ ہی گی ھے کے اگر لائف میں کول بننا ھے تو اوور ایکٹنگ تو لازمی ھے۔  اور اسی بات کو ثابت کرتے ہوئے کالج دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ھے۔ کول لوگ اور مانگو پیپل میرا مطلب عام لوگ۔  اب یہ جو ہوتے ہیں کول لوگ یہ اپنا ایک لیول اوپر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تا کے ہم جیسے عام لوگ چوتیا بن جاییں اور ان لوگوں کی سنوکر اور جم کی باتیں سن کر امپریس ہو جاییں اور ان کو زیادہ توجہ دیں۔  اب یہ توجہ حاصل کرنے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں ایک تو لڑکی پٹانے کی آگ اور اپنا کلاس دکھانے والا ایٹیِٹیُڈ۔ اب جیسے کے حال ہی میں مجھے کالج میں ایک گروپ پروجیکٹ ملا جس میں تھے تین لوگ میں ایک اور بندا اور ایک پاپا کی پری۔ اب یہ جو بندا تھا یہ لڑکی کو پٹانے کے لئے اس کے سامنے اپنا ایک الگ ہی سویگ دیتا۔  جیسے کے انجینرنگ تو بیکار ھے میں نے تو پہلے سال ہی چھوڑ کے جی سی جوائن کر لیا اور بنا پڑھے ہی چار سو نمبر آ گئے میرے۔ اب می...

کسی انجان لڑکی کو سیٹ کریں۔۔!!

Image
      پرسنلیٹی جتنا چھوٹا یہ لفظ ھے اتنا ہی بڑھا ھے اس کا سیاپا۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر ہر شخص آپ کو آپ کی پرسنیلٹی سے پہچانتا ھے۔ ٹیلنٹ ویلنٹ سب گیا بھاڑ میں پرسنیلٹی ہونی چاہیے مطلب ہونی چاہیے۔ لڑکی کے ڈیٹ پر جج کرنے سے لے کر جاب کے انٹرویو تک ہر جگہ کوئی تمہاری کوالٹی دیکھی جاتی ھے تو وہ ھے پرسنلیٹی۔ میرا دوسرا سال اتے ہی میں نے فیصلہ کر لیا کے باس اب تو چاہیے بس پرسلیٹی نہیں تو زندگی کے ساتھ چسپاں ہو جائے گا۔              اب یار پرسنلیٹی بڑھانے کے کورسز بھی فضول ہوتے ہیں جیسے کے کسی انجان سے بات کریں یا کسی انجان کی تعریف کریں اس طرح کے ٹاسک رکھے جاتے ہیں یہ نہیں کے کِس کریں انجان شخص کو یا گلے لگایں جسے استمال کر ہمارا بھی یوٹیوب پر ایک پرانک چینل بن جائے۔ پرسنلیٹی بڑھانے کے لئے اتنے سیاپے کرنے پڑے گے کبھی سوچا ہی نہیں تھا لیکن اب لنگی ٹائٹ کر لی تھی تو بس کر لیا چیلنج قبول۔                ہم لوگ ایک دن مال جلدی پوھنچ گئے تھے فلم دیکھنے تبھی مجھے ایک چیلنج یاد آیا کے کسی...

Getting Friendzoned part 1

Image
ایک لڑکی تھی آمنہ جو ساتویں جماعت تک میرے ساتھ پڑھتی تھی۔ وہ ہوتی ہیں نا کچھ لڑکیاں جو بچپن میں بلکل چُول اور کملی دیکھتی ہیں پر بڑھے ہوتی ہی وو لڑکیاں ڈیمانڈ میں آ جاتی ہیں۔ یہ بھی ویسی ہی لڑکی کی کہانی ھے۔ میری زیادہ بات تو نہیں ہوئی اس سے لیکن شکرھے فیس بک کا جس کی وجہ سے تھوڑی بات تو ہو ہی جاتی تھی۔           ایک دن میرا ایک اسکول فرینڈ آن لائن تھا اس نے پوچھا یار تیری آمنہ سے بات ہو رہی ھے میں نے بھی سویگ میں آ کر بول دیا ہاں یار بوہت پکّا رہی ھے۔ لیکن مجھے یہ پتا نہیں تھا کے وو جا کر چخلی کر دے گا بس پھر کیا جھگڑا ہو گیا ہمارا۔ اور پھر وہی انفرینڈ کرنے والا ڈرامہ  ویسے جب کبھی برا لگتا ریکویسٹ بھیج کر کینسل کر دیتا۔          ایک دن ریکویسٹ کینسل کرنا بھول گیا بس پھر کیا دونوں طرف سے سوری ہوا اور ہم پھر سے دوست بن گئے۔ وہ مجھے اپنی کہانیاں سناتی تھی اور میں اپنی۔ مزہ آتا تھا اس سے بات کرنے کا۔ ایک اچھی والی فیلنگ اتی تھی آہستہ آہستہ ہماری بونڈنگ بڑھ گی۔ وہ گوڈ مورننگ والی میسیجز اور کِس والے یموجس بھیجتی تھی اور جب کبھی ...