سٹوڈنٹ لائف اور امتحانات     


  جب سکولز اور کالجز سے سٹوڈنٹس کی اچھی چل رہی زندگی دیکھی نہیں گی تو انہو نے امتحانات اور رزلٹ ایجاد کر دیا ۔ اسکول کے دنوں میں کچھ لوگ تو جوش جوش میں آ کر فیس بک اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کر دیتے تھے وہ الگ بات ہے یہ جوش کچھ دنوں بعد ہی ختم ہو جاتا تھا اور یہ فیس بک اکاؤنٹ واپس سے آن ہو جاتا۔ ہر کلاس میں ایک ایسا بندا ہوتا ہے جو ٹیچر کو سرپرائز ٹیسٹ کی یاد دلا دیتا ہے پوری کلاس کے خلاف ہو کے مجھے آج تک سمجھ نہیں آیی کے کسی کو ٹیسٹ دینے کی اتنی کھجلی کیسے ہو سکتی ہے۔

      کالج میں اتے ہی سمجھ اتی ہے کے امتحانات اور رزلٹ سب دھوکہ ہے رولز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں اور اس دن سے ان دونو کا ڈر ختم ہو جاتا ہے اور یہ ڈر دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک فلم سے انسپائر ہو کے میں نے یہ فیصلہ کیا کے کالج میں نمبرز کے لئے نہیں بلکے علم کے لئے پڑنا ہے۔ میرا تیسرا سال بھی ختم ہونے والا ہے پر آج بھی جب میں اپنے سلیبس کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کے اس کا اسلام زندگی میں کیا استمال کروں گا۔ 
 
       امتحانات کی تیاری کا ایک اصول ہوتا ہے کالج والے چاہے امتحانات سے پہلے جتنی مرضی چھٹیاں دیں لیں مگر پڑھنا تو پیپر سے ایک رات پہلے ہی ہے اور انہی دنوں میں زندگی کی سب سے اچھی نیند اتی ہے امتحانات کے بعد چاہے جتنی بھی کوشش کر لو اتنی شدت سے نیند نہیں اتی۔

       کالج میں آ کر امتحانات کو لے کر سب کا سویگ بڑھ جاتا ہے سبھی لوگ تیاری کر کے اتے ہیں لیکن پرچہ ہاتھ میں اتے ہی سبھی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کے مضمون کا نام کیا تھا اور اگر کبھی ڈسکشن گروپ میں پھنس گیا تو میں بس ان کے جواب سن کر سمائل ہی کرتا ہوں جیسے میں نے بھی وہی جواب لکھا ہو لیکن دماغ میں سوچتا ہوں کے یار ایک بھی جواب درست نہیں اس بار تو لگ گی۔
   
        ہر پرچے کے بھر ایک ایسا دوست ہوتا ہے جو فیل ہونے کا رونا لگاتا ہے اور دل کو تسلی دیتا ہے کے کوئی تو اپنے ساتھ ہے لیکن اس کے زیادہ نمبر آ جاتے ہیں بس پھر اس دن سے دوستی ختم۔

         کسی مجھ جیسی عظیم ہستی نے کہا ہے کے اسکول کے نمبر خواب دکھاتے ہیں جب کے کالج کے گریڈز اوقات۔ بس یہی اوقات کسی کو پتا نا چلے اسی لئے رذلٹ سے سب کو ڈر لگتا ہے۔ اور صرف یہ ہی نہیں جن لڑکوں کے اچھے نمبر اتے ہیں ان کو یہ کھجلی ہوتی ھے کے سب کے نمبر پتا کرنے ہیں یہ نہیں ک اپنے مارکس دیکھ کے خوش رہیں۔

         ہمارے ایجوکیشن سسٹم کو لے کر میری ایک فلاسفی ھے کے سٹوڈنٹس تین طرح کے ہوتے ہیں پہلے وو جو پڑھنے میں اچھے ہوتے ہیں اور کسی اچھے کالجز میں چلے جاتے ہیں۔ دوسرے وو جو بنے تو کسی اور چیز کے لئے ہوتے ہیں لیکن فیملی کے دباؤ میں آ کر چھوٹے کالجز سے انجینرنگ کر لیتے ہیں۔ تیسرے وہ جن کو کچھ پتا نہیں ہوتا کے ہو کیا رہا ھے اور اویں کالجز میں رش بڑھنے آ جاتے ہیں۔

        ہمارا ایجوکیشن سسٹم اتنا بھی برا نہیں تھا لیکن ٹائپ تھری والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے سب غلط ہوا پیرا ھے۔ سب کو پتا ھے لے گریڈز سے لائف میں کسی کو گھنٹہ فرق پڑتا ہیں بس مارکس کے نام پے سٹوڈنٹس کو اذیت دینے میں سب کو بڑھا مزہ اتا ھے۔ 


تو بس یار آج کے لئے اتنا ہی ملتے ہیں اگلی پوسٹ میں۔ تب تک مزید پوسٹس کے لئے آپ مجھے فیس بک پر فالو کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میری ہوٹ جونیئر کی کہانی۔۔۔

دوست کا بدلہ!!