کالج کی حاضری!
اسکول ہو یا کالج دونوں ایک اہم چیز سے چلتے ہیں جو ہی حاضری۔ اسکول کے ٹائم پہ حاضری کا اتنا مسلہ نہیں ہوتا تھا کیوں کے اسکول کے ٹائم پر کلاسز بنک کرنے کا کوئی پتا ہی نہیں تھا اور تب حاضری بھی صرف ایک بار ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر گیارھویں بارھویں میں انجینرنگ کے چکرمیں ایک سستے کالج میں داخلہ ہو گیا جہاں پر کلاسز میں جانے کا کوئی چکر نہیں ہوا کرتا تھا اور زیادہ تر وقت اکیڈمی میں گزر جاتا تاکہ ہم یو ام ٹی میں جا سکے۔
شروع شروع میں جب میں کالج میں آیا تو یہ نہیں پتا تھا کے کالج میں حاضری کا چکر اسکول سے بھی برا ہونے والا ھے۔ داخلے کے لئے پچھتر فیصد نمبروں کا سیاپا لائف میں جڑ گیا اور اگر یہ بھی کم پڑے تو مارکس کے بھی فیصد حاضری لگنے لگی۔ اب غریب سٹوڈنٹ کرے بھی تو کیا کرے۔
پہلے سال میں کلاس رومز اور عمارت بڑی خوبصورت ہوا کرتے تھے اور کلاس میں سونے کا مزہ ہی کچھ اور ہوا کرتا تھا۔ پھر سیکنڈ ائیر میں آ کے کالج اپنی اصلی اوقات پر آ گیا اور ہمے گھٹیا سے کلاس رومز میں شفٹ کر دیا گیا۔ اب ہر روز صبح صبح اٹھ کر کالج جانا سب سے مشکل کام بن گیا۔ ہر صبح ایک سٹینڈرڈ روٹین تھا کے اگر پہلا لیکچر بنک کر دو تو کتنے فیصد حاضری لگے گی اور کتنی بچے گی۔
کالج میں آ کر کلاسز بنک کرنے کا ایک اپنا ہی سویگ تھا۔ پوری دنیا چوتیوں کی طرح کلاس میں ہو اور میں باس کی طرح روم میں بیٹھا رہوں۔ اور پھر جب داخلوں کے وقت حاضری کم ہوتی تو سبھی کہتے کے اپنا کالج ہی چوتیا ھے باقی کالجز میں حاضری کا کوئی چکر ہی نہیں۔
کالجز میں حاضری کا چکر اس لئے ہوتا ھے تاکہ بچہ ٹیچرز کے نوٹس لکھ سکے پر ہمارے لئے تو فون میں لی گی تصویریں ہی بہترین ذریع تھی۔ لائف میں ہر چیز کا ایک جگاڑھ ہوتا ھے اور کالج کی حاضری کا بہترین جگاڑھ پراکسی ھے۔ پراکسی والے دوست بھی الگ ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو بچپن میں سیکھائ گی باتوں کو دل پی لے لیتے ہیں۔ اور اگر پراکسی لگاتے پکڑے گئے تو بس زیادہ کچھ نہیں ٹیچر ذلیل کرتا اور اب سے اس پر نظر رکھنا شرو کر دیتا۔
فرسٹ ائیر میں ہوں یا فائنل ائیر میں اب تو لگتا ھے کے حاضری کا سیاپا کبھی نہیں مکنا۔ سٹوری پسند آیی تو کمینٹ مار دو یار بس۔
یہاں کلک کر کے مجھے فالو کریں۔
شروع شروع میں جب میں کالج میں آیا تو یہ نہیں پتا تھا کے کالج میں حاضری کا چکر اسکول سے بھی برا ہونے والا ھے۔ داخلے کے لئے پچھتر فیصد نمبروں کا سیاپا لائف میں جڑ گیا اور اگر یہ بھی کم پڑے تو مارکس کے بھی فیصد حاضری لگنے لگی۔ اب غریب سٹوڈنٹ کرے بھی تو کیا کرے۔
پہلے سال میں کلاس رومز اور عمارت بڑی خوبصورت ہوا کرتے تھے اور کلاس میں سونے کا مزہ ہی کچھ اور ہوا کرتا تھا۔ پھر سیکنڈ ائیر میں آ کے کالج اپنی اصلی اوقات پر آ گیا اور ہمے گھٹیا سے کلاس رومز میں شفٹ کر دیا گیا۔ اب ہر روز صبح صبح اٹھ کر کالج جانا سب سے مشکل کام بن گیا۔ ہر صبح ایک سٹینڈرڈ روٹین تھا کے اگر پہلا لیکچر بنک کر دو تو کتنے فیصد حاضری لگے گی اور کتنی بچے گی۔
کالج میں آ کر کلاسز بنک کرنے کا ایک اپنا ہی سویگ تھا۔ پوری دنیا چوتیوں کی طرح کلاس میں ہو اور میں باس کی طرح روم میں بیٹھا رہوں۔ اور پھر جب داخلوں کے وقت حاضری کم ہوتی تو سبھی کہتے کے اپنا کالج ہی چوتیا ھے باقی کالجز میں حاضری کا کوئی چکر ہی نہیں۔
کالجز میں حاضری کا چکر اس لئے ہوتا ھے تاکہ بچہ ٹیچرز کے نوٹس لکھ سکے پر ہمارے لئے تو فون میں لی گی تصویریں ہی بہترین ذریع تھی۔ لائف میں ہر چیز کا ایک جگاڑھ ہوتا ھے اور کالج کی حاضری کا بہترین جگاڑھ پراکسی ھے۔ پراکسی والے دوست بھی الگ ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو بچپن میں سیکھائ گی باتوں کو دل پی لے لیتے ہیں۔ اور اگر پراکسی لگاتے پکڑے گئے تو بس زیادہ کچھ نہیں ٹیچر ذلیل کرتا اور اب سے اس پر نظر رکھنا شرو کر دیتا۔
فرسٹ ائیر میں ہوں یا فائنل ائیر میں اب تو لگتا ھے کے حاضری کا سیاپا کبھی نہیں مکنا۔ سٹوری پسند آیی تو کمینٹ مار دو یار بس۔
یہاں کلک کر کے مجھے فالو کریں۔

Comments
Post a Comment