کسی انجان لڑکی کو سیٹ کریں۔۔!!
پرسنلیٹی جتنا چھوٹا یہ لفظ ھے اتنا ہی بڑھا ھے اس کا سیاپا۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر ہر شخص آپ کو آپ کی پرسنیلٹی سے پہچانتا ھے۔ ٹیلنٹ ویلنٹ سب گیا بھاڑ میں پرسنیلٹی ہونی چاہیے مطلب ہونی چاہیے۔ لڑکی کے ڈیٹ پر جج کرنے سے لے کر جاب کے انٹرویو تک ہر جگہ کوئی تمہاری کوالٹی دیکھی جاتی ھے تو وہ ھے پرسنلیٹی۔ میرا دوسرا سال اتے ہی میں نے فیصلہ کر لیا کے باس اب تو چاہیے بس پرسلیٹی نہیں تو زندگی کے ساتھ چسپاں ہو جائے گا۔
اب یار پرسنلیٹی بڑھانے کے کورسز بھی فضول ہوتے ہیں جیسے کے کسی انجان سے بات کریں یا کسی انجان کی تعریف کریں اس طرح کے ٹاسک رکھے جاتے ہیں یہ نہیں کے کِس کریں انجان شخص کو یا گلے لگایں جسے استمال کر ہمارا بھی یوٹیوب پر ایک پرانک چینل بن جائے۔ پرسنلیٹی بڑھانے کے لئے اتنے سیاپے کرنے پڑے گے کبھی سوچا ہی نہیں تھا لیکن اب لنگی ٹائٹ کر لی تھی تو بس کر لیا چیلنج قبول۔
ہم لوگ ایک دن مال جلدی پوھنچ گئے تھے فلم دیکھنے تبھی مجھے ایک چیلنج یاد آیا کے کسی انجان کی تعریف کریں لیکن اس میں ایک تبدیلی یہ تھی کے یہ انجان کوئی لڑکی ہونی چاہیے۔ میں نے آس پاس دیکھا تو مجھے ناول سیکشن میں ایک لڑکی دیکھی جو کے پیچھے سے تو کافی اچھی لگ رہی تھی۔ عمر میں مجھ سے تھوڑی بڑھی لگ رہی تھی پر خیر ھے میں نے کونسا کوئی سِیِن سیٹ کرنا تھا۔
میرا نہ ایک پرابلم ھے کے مجھے لڑکی کے چہرے کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا مطلب اس کا ڈریس وغیرہ لیکن میرا ایک دوست ھے جسے لڑکی کی نیل پالش کے رنگ سے لے کر اس کا فگر تک یاد رہتا ھے۔ ٹارگٹ سیٹ تھا لوکیشن سیٹ تھا پر سالہ ہمّت کے ایل لگے پڑے تھے۔ دو قدم جاؤ پھر واپس آ جاؤ اور ایک تو دھڑکن ایسی صورتحال میں اور بھی پریشانی بڑھا دیتی ھے۔ لیکن پھر میں نے تھری ایڈیٹ والا ڈائلاگ بولا کے اگر آج کچھ نہ کر پایا تو زندگی بھر فٹو ہی رہ جاؤ گا۔
بس پھر کچھ نہیں سوچا اور اس کے قریب جا کر بیوٹی فل ڈریس کہ دیا پلان تو چہرے پی کومپلیمنٹ دینے کا تھا پر وو لگا کے زیادہ اوور ہو جائے گا۔ میں نے بول تو دیا پر اس کا شکل ایک دم سے بلینک ہو گیا۔ وہ 3 سیکنڈز کا وقفہ تھا مگر میری اس ٹائم فٹی پر تھی کے کہی کچھ پبلک کانڈ نہ ہو جائے۔ پر اتنے مے اس ک دماغ کی بتی جلی اور اسے نے سمائل کر کے تھنک یو کہ دیا۔
میری جان میں جان آیی میں نے اس سے پوچھا کے وھیرے آر یو فروم۔ تو وو بولی ساؤتھ کوریا۔ جوش میں آ کر میرے دماغ کا فیوز اُڑھ گیا بھائی نے بارڈر کراس کر کے انٹرنیشنل لیول پر یہ چیلنج پورا کیا۔ وہ الگ بات ھے کے فرنگی سے بات کرنے کی خوشی میں نہ اس کا نام پوچھا نہ فیس بک آئ ڈی اور بس نایس ٹو ٹالک ٹو یو۔ وہ بھی سوچ رہی ہو گی کے پاکستان میں کتنے ویلے لوگ بھرے پڑے ہیں۔
تو بس یار آج کے لئے اتنا ہی مجھے ابھی ایک اور انجان لڑکی سے بات کرنے کا طریقہ سوچنا ھے پر اس بار کسی پاکستانی سے۔ بس ایسے ہی پیار دیتے رہیں اور فیس بک پر مجھے فالو کر لیں اچھی اچھی پوسٹس کے لئے۔
یہاں کلک کر کے فالو کریں۔
شکریہ
اب یار پرسنلیٹی بڑھانے کے کورسز بھی فضول ہوتے ہیں جیسے کے کسی انجان سے بات کریں یا کسی انجان کی تعریف کریں اس طرح کے ٹاسک رکھے جاتے ہیں یہ نہیں کے کِس کریں انجان شخص کو یا گلے لگایں جسے استمال کر ہمارا بھی یوٹیوب پر ایک پرانک چینل بن جائے۔ پرسنلیٹی بڑھانے کے لئے اتنے سیاپے کرنے پڑے گے کبھی سوچا ہی نہیں تھا لیکن اب لنگی ٹائٹ کر لی تھی تو بس کر لیا چیلنج قبول۔
ہم لوگ ایک دن مال جلدی پوھنچ گئے تھے فلم دیکھنے تبھی مجھے ایک چیلنج یاد آیا کے کسی انجان کی تعریف کریں لیکن اس میں ایک تبدیلی یہ تھی کے یہ انجان کوئی لڑکی ہونی چاہیے۔ میں نے آس پاس دیکھا تو مجھے ناول سیکشن میں ایک لڑکی دیکھی جو کے پیچھے سے تو کافی اچھی لگ رہی تھی۔ عمر میں مجھ سے تھوڑی بڑھی لگ رہی تھی پر خیر ھے میں نے کونسا کوئی سِیِن سیٹ کرنا تھا۔
میرا نہ ایک پرابلم ھے کے مجھے لڑکی کے چہرے کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا مطلب اس کا ڈریس وغیرہ لیکن میرا ایک دوست ھے جسے لڑکی کی نیل پالش کے رنگ سے لے کر اس کا فگر تک یاد رہتا ھے۔ ٹارگٹ سیٹ تھا لوکیشن سیٹ تھا پر سالہ ہمّت کے ایل لگے پڑے تھے۔ دو قدم جاؤ پھر واپس آ جاؤ اور ایک تو دھڑکن ایسی صورتحال میں اور بھی پریشانی بڑھا دیتی ھے۔ لیکن پھر میں نے تھری ایڈیٹ والا ڈائلاگ بولا کے اگر آج کچھ نہ کر پایا تو زندگی بھر فٹو ہی رہ جاؤ گا۔
بس پھر کچھ نہیں سوچا اور اس کے قریب جا کر بیوٹی فل ڈریس کہ دیا پلان تو چہرے پی کومپلیمنٹ دینے کا تھا پر وو لگا کے زیادہ اوور ہو جائے گا۔ میں نے بول تو دیا پر اس کا شکل ایک دم سے بلینک ہو گیا۔ وہ 3 سیکنڈز کا وقفہ تھا مگر میری اس ٹائم فٹی پر تھی کے کہی کچھ پبلک کانڈ نہ ہو جائے۔ پر اتنے مے اس ک دماغ کی بتی جلی اور اسے نے سمائل کر کے تھنک یو کہ دیا۔
میری جان میں جان آیی میں نے اس سے پوچھا کے وھیرے آر یو فروم۔ تو وو بولی ساؤتھ کوریا۔ جوش میں آ کر میرے دماغ کا فیوز اُڑھ گیا بھائی نے بارڈر کراس کر کے انٹرنیشنل لیول پر یہ چیلنج پورا کیا۔ وہ الگ بات ھے کے فرنگی سے بات کرنے کی خوشی میں نہ اس کا نام پوچھا نہ فیس بک آئ ڈی اور بس نایس ٹو ٹالک ٹو یو۔ وہ بھی سوچ رہی ہو گی کے پاکستان میں کتنے ویلے لوگ بھرے پڑے ہیں۔
تو بس یار آج کے لئے اتنا ہی مجھے ابھی ایک اور انجان لڑکی سے بات کرنے کا طریقہ سوچنا ھے پر اس بار کسی پاکستانی سے۔ بس ایسے ہی پیار دیتے رہیں اور فیس بک پر مجھے فالو کر لیں اچھی اچھی پوسٹس کے لئے۔
یہاں کلک کر کے فالو کریں۔
شکریہ

Comments
Post a Comment